اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عراق کے سیاحت و آثار قدیمہ کے محکمے نے ایک بیان میں مطالبہ کیا ہے کہ داعش کی تباہ کاریوں کا جائزہ لینے کےلئے جلد از جلد ہنگامی اجلاس بلائے- اس بیان میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا گيا ہے کہ عراق کے آثار قدیمہ کے بارے میں اپنے فیصلوں پر عمل درآمد کرے- عراق کی وزارت سیاحت کے بیان میں آیا ہے کہ داعش نے عالمی برادری کو چیلنج کرتے ہوئے بلڈوزروں اور سنگین آلات سے شہر نمرود کے آثار قدیمہ تباہ کردئے ہیں۔ اس بیان میں کہا گيا ہے کہ شہر نمرود کےآثار قدیمہ کی تاریخ میلاد مسیح سے تین صدیوں قبل تک پہنچتی ہے- عراق کی حکومت نےکہا ہے انسانی تہذیب کے نمونوں کو تباہ کرنے کے جرم میں تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے- قابل ذکر ہے دوہفتے قبل بھی تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں اس کے عناصر کو موصل کے میوزیم میں تاریخی آثار تباہ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے- عالمی سطح پر سیاسی اور ثقافتی شخصیتوں نے داعش کے ہاتھوں تاریخی آثار کی تباہی کو المیہ قراردیا- ان شخصیتوں نے کہا کہ اسی طرح کا اقدام طالبان کے دہشتگردوں نے بھی کیا تھا اور انہوں نے افغانستان کے صوبہ بامیان میں گوتم بدھ کے تاریخی مجسموں کو تباہ کردیا تھا- امریکہ اور سعودی عرب کی مدد سے تکفیری دہشتگرد گروہ داعش نے شام اور عراق کے کچھ حصوں پر قبض کرلیا ہے- یہ پسماندہ اور دہشتگرد گروہ ہر اس چیز کو جو اس کی تکفیری اور دقیانوسی فکر سے میل نہیں کھاتی ویران کردیتا ہے- اس سے پہلے داعش کے تکفیریوں نے موصل کے مرکزی کتب خانے پر حملہ کرکے عراق کے تاریخی اخبار نابود کردئے تھے- ان میں بعض اخباروں کا تعلق بیسویں صدی کے ابتدائي زمانے سے تھا- پسماندہ ذہنوں کے حامل تکفیریوں نے اس تاریخی کتب خانے کی سیکڑوں کتابیں اور خطی نسخے بھی جلادیئے تھے- تکفیری دہشتگردوں نے یہ غیر انسانی اقدام یونیورسٹی طلباء کے سامنے انجام دیا- تکفیریوں نے موصل کی لائبریری سے سلطنت عثمانیہ کے کچھ نقشے اور کتابیں بھی نذر آتش کردیں- قابل ذکر ہے مبصرین کا کہنا ہےکہ امریکہ اور صیہونیوں نے تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کو وہابیت کے سرمائے سے عرب اور اسلامی ملکوں کی تہذیب و تمدن کو تباہ کرنے کے ھدف سے پروان چڑھایا ہے-
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲